اگر یہی حال رہا تیرے مہخانوں کا
ڈھیر لگ جاۓگا ٹوٹے ہوۓ پیمانوں کا
قحط دنیا میں ہے اب ایسے مسلمانوں کا
زور جو توڑ دیتے تھے بھرتے طوفانوں کا
نہ قائد ہے،نہ اقبال ہے،نہ سر سید ہے،نہ ابن قاسم
راستہ صاف ہے بڑھتے ہوۓ شیطانوں کا
جسے چاہو, جہاں چاہو بہہ دو جس کو
خون سستا ہے اس دور میں انسانوں کا
جن کے ہوتے ہوۓ لٹ جائیں غریبوں کے مکان
وہ ظالم وعدہ کرتے ہیں ۔۔۔روٹی ، کپڑا اور مکان۔۔۔
Source: Unknown Sender
No comments:
Post a Comment